وسیم جبران ۔۔۔ کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے

کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے
دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے
برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے
تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے
چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے
گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے
اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا
لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے
کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے
تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے
تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے
ہر ایک لفظ سے ناول میں آگ جلتی ہے

Related posts

Leave a Comment