کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے
دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے
برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے
تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے
چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے
گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے
اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا
لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے
کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے
تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے
تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے
ہر ایک لفظ سے ناول میں آگ جلتی ہے
Related posts
-
افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک... -
آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو...
